دنیا کے کسی ملک میں گاڑیاں اتنی محنت اور محبت سے نہیں سجائی جاتیں جتنی پاکستان میں۔ اس لحاظ سے پاکستانی ٹرک اور دوسری گاڑیاں اپنی decoration اور سجاوٹ کی وجہ سے دنیا بھر میں خاص مقام رکھتی ہیں۔ پاکستانی ٹرک آرٹ کی تاریخ بڑی پرانی ہے۔ ہزاروں سال پہلے  Indus Valley Civilization کے زمانے کے artifacts سے پتا چلتا ہے کہ اس دور میں بھی بیل گاڑیوں پر پھول پتے اور نقش و نگار بنائے جاتے تھے۔

ٹرک آرٹ صرف سجاوٹ کے کام نہیں آتا، بلکہ اس سے ٹرک کے مالک، ڈرائیور، اور پینٹر کی سوچ کے بارے میں بہت سی باتوں کا پتا چلتا ہے۔ ٹرکوں کے علاوہ بسوں، ویگنوں، اور رکشاؤں کو بھی سجایا جاتا ہے۔ لیکن جتنی سجاوٹ ٹرک کی ہوتی ہے، اتنی کسی اور گاڑی کی نہیں۔

سجاوٹ میں زیادہ ہاتھ ڈرائیور کا ہوتا ہے، جس کے مشورے اور پسند سے ٹرک سجایا جاتا ہے۔ اگر ٹرک کی سنگھار میں کمی رہ جائے تو یہ ڈرائیور کے لیے شرم کی بات ہوتی ہے۔ دوسرے ڈرائیور ہارن بجا کر اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ لیکن اگر ٹرک سولہ سنگھار سے سجا ہو تو اس کا ڈرائیور زیادہ محنت سے ٹرک چلاتا ہے۔

پاکستان کے مختلف علاقوں میں مختلف طریقوں سے ٹرک سجائے جاتے ہیں۔ اگر کوئی ٹرک regional ٹرک آرٹ سے واقف ہو تو وہ دیکھ کر بتا سکتا ہے کہ یہ ٹرک کس شہر میں تیار کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر کوئٹہ کے ٹرکوں پر شیشے کا بہت عمدہ کام کیا جاتا ہے۔ راولپنڈی کے ٹرکوں پر بہت خوب صورت جھالریں festoons  اورچمک دار پٹیاں لگائی جاتی ہیں۔ اسی طرح پشاور کے ٹرکوں پر لکڑی کا خوب صورت کام کیا جاتا ہے۔ سندھ میں بننے والے ٹرکوں پر اونٹ کی ہڈی سے بنی ہوئی decorative چیزیں لگائی جاتی ہیں۔

پاکستانی ٹرک ایک چلتی پھرتی exhibition کا کام کرتے ہیں جو mulk کے کونے کونے میں جا کر دیکھنے والوں کو خوب صورت presentation پیش کرتے ہیں۔ لیکن ٹرک آرٹ صرف نظارے کے لیے ہی نہیں ہے، بلکہ اس سے ٹرک کے مالک اور ڈرائیور کی personality کا بھی expression ہوتا ہے۔ ٹرک پر بنائی گئی landscapes، پرندوں، پھولوں، جانوروں اور لوگوں کی تصویروں سے ٹرک ڈرائیور کے مزاج کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اکثر ٹرکوں کے پیچھے ایک landscape بنی ہوتی ہے، جس میں ایک خوب صورت valley دکھائی جاتی ہے۔ ایک طرف جھیل میں مرغابیاں تیر رہی ہوتی ہیں، پہاڑوں کی چوٹیاں برف سے ڈھکی ہوتی ہیں اور ایک کونے میں درختوں کے پیچھے گھر بنایا گیا ہوتا ہے۔ اس لینڈسکیپ کی popularity کی وجہ یہ ہے کہ بہت سے ٹرک ڈرائیور پہاڑی علاقوں سے آئے ہوتے ہیں۔ نوکری کی خاطر میدانوں میں ٹرک چلاتے ہوئے وہ اس قسم کی تصویروں کی مدد سے اپنے علاقے کو یاد کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ٹرکوں پر پاکستان کی مشہور buildings  اور monuments کی تصاویر بنی ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مور، چکور، عقاب، اور چڑیا جیسے پرندوں کی تصاویر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پاکستان کا جھنڈا اور مشہور personalities کی تصویریں بھی بنائی جاتی ہیں۔

یوں تو ٹرک آرٹ میں ہر قسم کے رنگ استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن شوخ اور گہرے رنگ زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔ ان رنگوں میں سبز، سرخ، نیلا، اور پیلا رنگ خاص طور پر عام ہیں۔

پاکستانی ٹرک آرٹ اب دنیا بھر میں توجہ حاصل کر رہا ہے۔ 2002 میں واشنگٹن ڈی سی کے سمتھ سونیئن میوزیم نے پاکستان سے ایک ٹرک منگوایا تھا جو اب میوزیم کی permanent collection میں شامل ہے۔ آسٹریلیا کے شہر میلبرن میں ایک ٹرام کو پاکستان ٹرکوں اور بسوں کے انداز میں ornamentation کی گئی تھی۔ اسی طرح نیویارک میں پاکستانی ٹرک آرٹ کی نمائش ہوئی تھی۔

تصویروں کے علاوہ ٹرکوں پر شعر و شاعری بھی ملتی ہے۔ بہت سی شاعری ایسی ہوتی ہے جس میں ڈرائیور کی زندگی کی سختیوں اور hardships کا ذکر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ محبت میں ناکامی، وطن کی محبت، مذہب سے محبت، اور اپنے علاقے کی تعریف میں لکھے ہوئے شعر عام ملتے ہیں۔ بہت سے ٹرکوں پر نصیحت کی باتیں لکھی ہوتی ہیں اورساتھ ہی ساتھ quotable quotes اور دیکھنے والوں کو مشورے بھی دیے جاتے ہیں۔ ٹرک اشعار کے subjects   کے extent    کا اندازہ اس سے لگائیے کہ popular فوک singer عطااللہ عیسیٰ خیلوی کے بارے میں ایک لطیفہ مشہور تھا وہ اپنے گانے کسی شاعر سے نہیں لکھواتے بلکہ شام کو جی ٹی روڈ کے کنارے پنسل کاپی لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔ پندرہ ٹرک گزرے اور ایک گانا تیار ہو گیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرے ٹرک میں آپ کو عطااللہ ہی کا گانا بجتا سنائی دے گا۔

 نیچے ٹرکوں پر لکھی گئی کچھ تحریروں کے sample دیے گئے ہیں۔

ماں کی دعا، جنت کی ہوا

خیر ہو آپ کی

نصیب اپنا اپنا

پپو یار تنگ نہ کر

دیکھ مگر پیار سے

پہاڑوں کا شہزادہ

اک بار مسکرا دو

میں نوکر بری سرکار کا

ڈرائیور کی زندگی بھی عجیب کھیل ہے

موت سے بچ گیا تو سنٹرل جیل ہے

یہ سب تمہارا کرم ہے آقا کہ بات اب تک بنی ہوئی ہے

جیسی کرنی ویسی بھرنی

ہارن دے، رستہ لے

جلنے والے کا منھ کالا